ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنتامنی: نئی نسلوں کی اسلام پر بقا کیلئے اخلاقی تعلیم ضروری :معلمہ کاشفاخانم

چنتامنی: نئی نسلوں کی اسلام پر بقا کیلئے اخلاقی تعلیم ضروری :معلمہ کاشفاخانم

Tue, 03 Jan 2017 12:27:05    S.O. News Service

چنتامنی:3 /جنوری(محمد اسلم/ایس او نیوز)ہمارے معاشرے میں عصری تعلیم پر بہت زور دیا جارہا ہے ضروری بھی ہے مگر نئی نسلوں کی اسلام پر بقاء کیلئے اخلاقی طور پردینی تعلیم کو حاصل کرنا بھی بہت ضروری ہے یہ بات معلمہ کاشفا خانم نے کہی ۔ گزشتہ روزشہر کے محبوب نگر مدرسہ کاشف القرآن کے سالانہ جلسہ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہمارے بچوں کو جتنی عصری تعلیم کی ضرورت کو محسوس کیا جارہا ہے اسی طرح اخلاقی طور پراس سے کئی درجہ دینی تعلیم کی ضرورت پڑھ رہی ہے اسکول جانے والے بچوں کیلئے ضروری ہے کہ ان کی زندگی میں اسلامی تعلیمات اورحضور ؐ کی حیات طیبہ وسیرت پر زہین نشین کرایا جائے اس کیلئے والدین پر بہت زیادہ زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم و اخلاقی طور پربچوں میں شوق وجزبہ پیداکریں کمسن چھوٹے اسکولی بچوں میں بچپن ہی سے نماز احکام خداوندی حضور ؐ کی تعلیمات کو دیا جانے کی کوشش کیا جائے تو یہ بچے بڑے ہونے تک اسلامی تعلیمات کا ایک خاصہ جز بن سکتے ہیں ان بچوں پر ماں باپ کا شوق اور مدرسہ میں استاد کی محنت اگر پوری طرح کام کرنے لگی تو آئندہ ان نسلوں میں اسلام اخلاقی طور طریقہ باقی رہے گا۔

معلمہ نے مزید کہی کہ اس طرح کے مدرسہ کی آج ہر محلہ کی ضروری ہے کیوں کے ہم مسلمانوں کو توجہ دلائیں گے کہ اب صرف کنویں بنانا اور صرف مسجد کے مقابلے میں مسجد بنانا صرف یہی ایک نیکی کا کام نہیں ہے بلکہ بڑی نیکی کا کام یہ ہے کہ آپ اس نئی نسل کو بچائیں اور ایسے معیاری اسکول قائم کریں جن کا انتظام ،جن کے اساتذہ کی سطح یعنی کوالیفیکیشن ان کا تجربہ کسی دوسرے اسکولوں سے کم نہ ہو جن کو دوسرے فرقوں نے قائم کئے ہیں بلکہ بہتر ہونا چاہئے مسلمانوں کوہر میدان میں سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہئے اس کی صفائی اور اس کا نظم و نسق وہ ہر طرح سے ایسا ہو کہ کھاتے پیتے لوگ اور جن کا معیار زندگی بلند ہے وہ اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے میں ذرا بھی تأمل نہ کریں لیکن اسی کے ساتھ آپ سے یہ کہنا ضروری بھی ہے کہ آپ ہر جگہ ایسے اسکول جہاں پر عصری تعلیم کا نظام ہو وہاں پر مدرسہ قائم کیجئے جہاں اچھے خوش حال اور تعلیم یافتہ لوگ اپنے بچوں کو بے تکلف بھیجیں آپ یہ امید نہ رکھیں کہ سب عربی مدارس میں آجائیں گے یہ ہوجاتا تو بڑا اچھا تھا لیکن ہر تمنا پوری نہیں ہوتی ہے اس کا ہمیں لحاظ رکھنا چاہئے ان کے لئے ایسے اسکولوں کو قائم کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے جہاں بقدر ضرورت دینی معلومات سے واقفیت ہو جائے ،نماز روزے کے پابند ہو جائیں اردو پڑھ لکھ سکیں اور اسلام کی خوبی کا نقش ان پر قائم ہو جائے وہ اپنے مسلمان ہونے پر فخر کریں اور اس کی کوشش کریں کہ مسلمان رہیں اور پھر دوسرے یہ بھی کہ جو غیر مسلم اسکولس میں پڑھتے ہیں آپ کا تعلیمی نتیجہ ان سے بہتر ہونا چاہئے آپ کے بچے جب وہاں جائیں تو وہ ان کے مقابلے میں بہتر ہوں اگر آپ اس میں کامیاب ہو گئے تو بڑی خدمت انجام دیں گے خدا کے فضل سے دینی مدارس کی خدمت میں لگے ہوئے وہ بھی دین کا کام کررہے ہیں دین کے ہر کام کو سراہتے رہنا ضروری ہے اسکی قدر کریں اور ہم خود اس کی ضرورت کو سمجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ملک کے طول و عرض اور شمال و جنوب میں مسلم اسکول بڑی تعداد میں موجود ہیں اور مستقبل میں اور مزید اس میں اضافہ ہوتے رہیں گے لیکن جس قسم کے اسکولوں سے ہماری نسلوں کے ایمان و عقائد محفوظ ہوں انکی تعداد انگلیوں پر گنے جانے کے قابل ہے اسکے نتیجہ میں ہماری نسلوں کا ایمان سے رشتہ کمزور ہو گا وہ عصری تعلیم کے فریب داؤ میں پڑ کر ایما ن و عقیدہ کھو بیٹھے گے اور ان میں اسلام کے خلاف رجحان پیدا ہو گاتو پھر اس ملک میں اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پیدا ہوسکتا ہے اخلاقی تعلیم کا بھی نظم عصری تعلیمی اداروں میں دینی تعلیم و اخلاقی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر بچوں نے اسلامی معلومات کو پیش کیا انہوں نے دعاء فرمائی۔


Share: